ساحل آن لائن - سچائی کا آیئنہ

Header
collapse
...
Home / ساحلی خبریں / لوک سبھا میں اترپردیش کا واحد مسلم چہرہ بنیں گی تبسم حسن؟

لوک سبھا میں اترپردیش کا واحد مسلم چہرہ بنیں گی تبسم حسن؟

Thu, 31 May 2018 23:01:35    S.O. News Service

نئی دہلی،31؍مئی ( ایس او نیوز؍آئی این ایس انڈیا ) یو پی کی کیرانہ لوک سبھا کی نشست کافی اہم مانی جا رہی ہے۔ یہ نشست بی جے پی رکن پارلیمنٹ حکم سنگھ کے انتقال سے خالی ہوئی تھی۔ اب یہاں جیت کے لئے مقابلہ کیرانہ کے دو خاندانوں حکم سنگھ اور اختر حسن کے بیچ ہے۔ ایک طرف حکم سنگھ کی بیٹی مرگانکا سنگھ بی جے پی کے ٹکٹ پر انتخابی میدان میں ہیں تو وہیں دوسری طرف مرحوم منور حسن کی اہلیہ تبسم حسن آر ایل ڈی کے انتخابی نشان پر ایس پی۔ بی ایس پی۔ آر ایل ڈی ۔ کانگریس کی مشترکہ امیدوار ہیں۔ ایسے میں اسے بہو اور بیٹی کی لڑائی بھی کہا جا رہا ہے۔

کیرانہ سے آنے والے رجحانات کے مطابق، تبسم حسن وہاں 42,000 سے زائد ووٹوں کی بڑھت کے ساتھ جیت کی طرف بڑھتی نظر آ رہی ہیں۔ اترپردیش کی 80 لوک سبھا نشستوں پر 2014 کے عام انتخابات میں ایک بھی مسلم امیدوار کو جیت نہیں ملی تھی۔ ایسے میں اگر تبسم کی جیت ہوتی ہے تو وہ موجودہ لوک سبھا میں یوپی سے مسلم نمائندگی کا واحد چہرہ ہوں گی۔

تبسم کیرانہ ہی سے رکن پارلیمنٹ رہ چکے اختر حسن کی بہو اور منور حسن کی اہلیہ ہیں۔ حسن کنبہ کیرانہ کی سیاست کا کافی پرانا کھلاڑی رہا ہے۔ اندرا گاندھی کے قتل کے بعد 1984 کے انتخابات میں ہمدردی کی لہر پر چڑھ کر چودھری اختر حسن نے بڑی جیت درج کی تھی۔ اس سے پہلے صرف 1971 میں ہی کانگریس یہاں سے جیتی تھی۔

1996 کے انتخابات میں اختر کے بیٹے منور حسن نے سماج وادی پارٹی کے ٹکٹ پر یہاں سے جیت درج کی لیکن دو ہی سال بعد بی جے پی نے اس سیٹ پر کھاتہ کھول دیا اور وریندر ورما نے منور کو شکست دے دی۔ اس کے بعد یہ سیٹ مسلسل دو بار آر ایل ڈی کے کھاتہ میں رہی۔ 2009کے لوک سبھا انتخابات میں منور کی بیوی تبسم نے بی ایس پی کے ٹکٹ پر الیکشن لڑا اور لوک سبھا پہنچیں۔

یہ سلسلہ یہیں ختم نہیں ہوتا۔ تبسم اور منور کے بیٹے ناہید حسن نے بھی 2014 میں حکم سنگھ کے خلاف الیکشن لڑا، لیکن 2 لاکھ سے زیادہ ووٹوں سے ہار گئے۔ دراصل، یہ شکست خاندان کی تقسیم کا نتیجہ تھی۔ تب ناہید حسن ایس پی کے ٹکٹ پر اور ان کے چچا کنور حسن بی ایس پی کے ٹکٹ پر الیکشن لڑے تھے، لیکن دونوں کو شکست کا سامنا کرنا پڑا تھا۔ ناہید دوسرے جب کہ چچا کنور تیسرے نمبر پر رہے تھے۔


Share: